ایک شادی کا احوال اورعوام کی اجتماعی حالت! کیا حکمران کامیاب ہوگئے؟

حکمرانوں کا اولین مقصد عوام کو تعلیم سے دور رکھنا ، اُنہیں تربیت یافتہ نہ بنانا اور محکموم رکھنا تھا،،، تاہم وہ اس میں پوری طرح کامیاب ہوگئے،،، نہیں یقین تو آپ گزشتہ روز ہونے والی سیالکوٹ کی ایک شادی کی تقریب کا حال دیکھ لیں،،، جہاں ایک ٹک ٹاکر جس کی شادی تھی،،، نے ایک نام نہاد اشتہار دیاجس میں انعامات کے لالچ دیے گئے تھے،،، تو پھر کیا تھا،،، وہاں عوام کا سیلاب اُمڈ آیا،،، عوام بغیر کچھ سوچے انعامات کے لالچ میں بھاگے اور کچھ اپنی جان سے گئے اور کچھ ٹانگیں تڑوا کر آگئے،،، میرے خیال میں سیاست بالکل ایسی عوام ہی چاہتے تھے،،، سواُنہیں مبارکباد کہ وہ اس میں کامیاب ہوگئے،،، کیوں کہ یہ بات تو طے ہے کہ اگر آپ میں شعور کی کمی ہے تو پھر آپ ”شغل میلے“ کے لیے وہاں تماشا دیکھنے ضرور جائیں گے،،، اور معذرت کے ساتھ ہم شغل میلے والی قوم ہیں،،، ورنہ عمران خان تمام قیادت سمیت اس وقت جیلوں میں قید ہے،،، کہ آﺅ اس ملک کی تقدیر بدلیں،،، اس پر کوئی سنجیدہ نہیں ہے،،، لیکن سوشل میڈیا پر ایک شادی کی تقریب پر اتنا بڑا ہجوم اور دھکم پیل دیکھ کر میں کیا،،، پوری دنیا میں ہمارا مذاق بنا،،، کہ ہم کس قدر باشعور قوم ہیں۔ بہرحال بات ہو رہی ہے،،، نارووال میں گزشتہ روز ایک ٹک ٹاکر جس کا نام ”مسٹر پتلو “ بتایا جاتا ہے،،، (یقین مانیں کہ میں نے شاید یہ نام ہی پہلی مرتبہ سنا ہو) کی شادی کے موقع پر انعامات کے لالچ میں ہزاروں افراد کا جمع ہونا، پھر بھگدڑ مچنے سے دو افراد کی ہلاکت اور متعدد افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مسٹر پتلو نے لوگوں کو کیوں بلایا، سوال یہ ہے کہ ہزاروں لوگ آخر کس امید پر ایک جگہ جمع ہو گئے؟ کیا چند انعامات، چند ہزار روپے یا کسی معمولی فائدے کی امید ہماری زندگیوں سے بھی زیادہ قیمتی ہو چکی ہے؟ کیا ہم نے اپنی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت دوسروں کے حوالے کر دی ہے؟ یہ واقعہ ہمیں ایک تلخ حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ہمارے ہاں اجتماع تو بہت آسانی سے ہو جاتا ہے، لیکن اجتماعی شعور پیدا کرنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ کبھی کسی یوٹیوبر کی ایک آواز پر ہزاروں لوگ جمع ہو جاتے ہیں، کبھی کسی سیاست دان کے ایک اعلان پر سڑکیں بھر جاتی ہیں، کبھی کسی مذہبی شخصیت کے ایک بیان پر لوگ اپنا کاروبار اور معمولات چھوڑ کر نکل پڑتے ہیں اور کبھی کسی انعام یا تحفے کی امید میں لوگ اپنی جان خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔ لیکن جب بات تعلیم، صحت، روزگار، قانون کی حکمرانی، شہری حقوق اور قومی ترقی کی آتی ہے تو یہی ہجوم کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی جگہ ہزاروں افراد کا جمع ہو جانا قوم بننے کی علامت نہیں۔ قومیں تعداد سے نہیں، شعور، نظم و ضبط، اجتماعی ذمہ داری اور مشترکہ مقاصد سے پہچانی جاتی ہیں۔دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں، قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے شہری اپنے حقوق کے ساتھ اپنے فرائض سے بھی آگاہ ہوں۔ جاپان دوسری جنگ عظیم میں تباہ ہوا، اس کے شہر کھنڈرات بن گئے، معیشت برباد ہو گئی، لیکن جاپانی قوم نے نظم و ضبط، محنت، تعلیم اور اجتماعی ذمہ داری کو اپنا راستہ بنایا۔ آج جاپان دنیا کی بڑی معیشتوں میں شمار ہوتا ہے۔ جرمنی نے بھی دوسری جنگ عظیم کے بعد تباہی سے نکل کر اپنی محنت، اداروں کی مضبوطی اور شہری ذمہ داری کے ذریعے ترقی کی۔ ان قوموں نے صرف حکمرانوں کے بدلنے کا انتظار نہیں کیا بلکہ اپنے اجتماعی رویے بھی بدلے۔کیا ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں، کیوں جا رہے ہیں اور جس مقصد کے لیے جا رہے ہیں، کیا وہ ہماری عزت، سلامتی اور وقت کے قابل بھی ہے؟ مذکورہ شادی کا واقعہ اسی اجتماعی رویے کی ایک مثال ہے۔ اطلاعات کے مطابق تقریب میں لوگوں کو گاڑی، موٹر سائیکلوں اور بھاری نقد انعامات دینے کے اعلانات کیے گئے تھے۔ پنجاب کے مختلف شہروں سے لوگ وہاں پہنچے۔ جب گراو¿نڈ کے دروازے کھلے تو بڑی تعداد میں لوگوں نے بیک وقت اندر جانے کی کوشش کی اور بھگدڑ مچ گئی۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ دو افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے منتظمین اور سکیورٹی سے متعلق افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا اور گرفتاریاں بھی ہوئیں۔ یہاں ایک بات واضح رہنی چاہیے کہ اس حادثے کی تمام ذمہ داری عوام پر ڈال دینا بھی درست نہیں۔ کسی بڑے عوامی اجتماع کا انعقاد کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کی تعداد، داخلی و خارجی راستوں، سکیورٹی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات کریں۔ انتظامیہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اجازت ناموں کی شرائط پر عمل درآمد یقینی بنائے۔ اگر منتظمین نے لوگوں کو انعامات کے نام پر بلایا، لیکن ان کے تحفظ کا مناسب انتظام نہیں کیا تو اس پہلو کی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ پولیس کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے نتائج سامنے آنے سے پہلے کسی کو مجرم قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ بہرحال یہ سوال صرف مسٹر پتلو کی شادی تک محدود نہیں۔ ہماری سیاسی تاریخ بھی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں عوام کو مختلف نعروں، وعدوں اور جذباتی تقاریر کے ذریعے سڑکوں پر لایا گیا۔ کبھی انقلاب کے نام پر، کبھی تبدیلی کے نام پر، کبھی مذہب کے نام پر اور کبھی کسی سیاسی رہنما کی محبت میں لوگ اپنا کاروبار، روزگار اور گھریلو ذمہ داریاں چھوڑ کر نکل کھڑے ہوتے ہیں۔یہاں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کسی سیاسی اجتماع میں شرکت کرنا بذاتِ خود بے شعوری نہیں۔ جمہوریت میں احتجاج، جلسے اور سیاسی سرگرمیاں شہریوں کا حق ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب شہری اپنی عقل، سوال کرنے کی صلاحیت اور حقائق جاننے کی کوشش کو کسی شخصیت کے حوالے کر دیتے ہیں۔ جب کوئی رہنما جو کہے وہی سچ، جب کوئی سوشل میڈیا شخصیت جو دکھائے وہی حقیقت اور جب کوئی مشہور انسان جس طرف بلائے، سب بغیر سوچے سمجھے اسی طرف چل پڑیں تو پھر معاشرے میں تنقیدی سوچ کیسے پیدا ہوگی؟آپ یقین مانیں ہم پاکستانیوں کی انہی حرکتوں کی وجہ سے بیرون ملک رہنے والے ہم سے ہمارے احوال ایسے پوچھتے ہیں کہ جیسے یہاں خانہ جنگی کی صورتحال ہو،،، ہم اُن کو کہتے ہیں کہ بھئی یہاں ایسی ویسی صورتحال نہیں ہے،،، بلکہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے،،، لیکن جب اس قسم کی حرکات ہوتی ہیں تو پھر ہمارا اُن کو جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے،،، حتیٰ کہ میرے دونوں بیٹے بیرون ملک ہیں،،، وہ اکثر مجھے کہتے ہیں کہ آپ بھی ہمارے ساتھ شفٹ ہو جائیں،،، کیوں کہ پاکستان کے حالات غیر یقینی قسم کے ہوگئے ہیں،،، پھر اُنہیں سمجھایا جاتا ہے کہ نہیں یار ہمیں اس مٹی سے پیار ہے،،، لیکن جب اس طرح کی خبریں عالمی سطح پر آئیں تو پھر ہم منہ چھپاتے پھرتے ہیں،،، اور پھر یہ مذکورہ شادی کی بات نہیں ہے،،، بلکہ ہمارے ہاںتو ”شخصیت پرستی“ کا رجحان عام پایا جاتا ہے،،، ہم کسی کی شہرت دیکھ کر اس کی بات پر یقین کر لیتے ہیں، اس کے کردار، علم، اہلیت اور مقاصد کو جانچنے کی کوشش نہیں کرتے۔ یہی رویہ سیاست میں بھی نظر آتا ہے اور سوشل میڈیا کی دنیا میں بھی۔ ہم کسی شخص کو ہیرو بنانے میں دیر نہیں لگاتے اور پھر اسی شخص کے ہر عمل کا دفاع کرنے لگتے ہیں۔ اور رہی بات عوام کے شعور کی تو ،،، دنیا میں سب سے بڑا مذہب اور شعور ”پیٹ کی بھوک“ ہوتی ہے،،، معذرت کے ساتھ ہمارے ”موٹو“ لوگوں (حکمران طبقے) نے عوام میں محرومی، غربت اور معاشی حیثیت اس قدر خراب کر دی ہے کہ لوگ چند انعامات کی امید میں بھاگم بھاگ دیوانہ وار چل نکلتے ہیں،،، جب ایک عام آدمی مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی اور معاشی مشکلات کا شکار ہو تو اسے مفت موٹر سائیکل، گاڑی یا نقد رقم کی پیشکش غیر معمولی کشش رکھتی ہے۔ کسی غریب شخص کا انعام کی امید میں جانا اس کی تضحیک کا جواز نہیں بن سکتا۔ ہمیں غربت کا مذاق اڑانے کے بجائے ان حالات کو سمجھنا ہوگا جو لوگوں کو ایسی امیدوں کے پیچھے بھاگنے پر مجبور کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ یہ شعور بھی ضروری ہے کہ کوئی انعام زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں ہوتا۔ چند لمحوں کی جلد بازی کسی خاندان کو ہمیشہ کے لیے غم میں مبتلا کر سکتی ہے۔ دراصل ہمارے معاشرے میں تعلیم کی کمی کے ساتھ ساتھ شہری تربیت کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ہم بچوں کو امتحان میں اچھے نمبر لینے کی تربیت تو دیتے ہیں لیکن انہیں قطار میں کھڑے ہونے، قانون کی پابندی کرنے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے اور ہجوم میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کی اہمیت نہیں سمجھاتے۔ یہی وجہ ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی سے لے کر سرکاری دفاتر میں دھکم پیل تک، ہمیں روزمرہ زندگی میں اجتماعی ذمہ داری کی کمی نظر آتی ہے۔ ایک اور خطرناک رجحان یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں شہرت حاصل کرنے کے لیے کسی غیر معمولی علمی، ادبی، سماجی یا فلاحی کام کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر چند ویڈیوز وائرل ہو جائیں تو انسان ہزاروں لوگوں کا پسندیدہ بن جاتا ہے۔ پھر بعض سوشل میڈیا شخصیات اپنی مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے بڑے اجتماعات منعقد کرتی ہیں، انعامات کا اعلان کرتی ہیں اور لوگوں کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ بہرکیف سوال یہ ہے کہ ہم کب بدلیں گے؟ ہم کب ایک ہجوم کے بجائے ایک قوم بنیں گے؟ اس کا جواب کسی ایک حکومت، سیاسی جماعت یا شخصیت کے پاس نہیں۔ اس کا آغاز گھر، اسکول، تعلیمی ادارے اور معاشرے سے ہوگا۔ہمیں اپنے بچوں کو سوال کرنا سکھانا ہوگا۔ انہیں یہ سمجھانا ہوگا کہ ہر وائرل ویڈیو حقیقت نہیں ہوتی، ہر مشہور شخص قابلِ تقلید نہیں ہوتا اور ہر بڑے اجتماع میں شرکت ضروری نہیں ہوتی۔ ہمیں انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اچھا شہری وہ نہیں جو صرف اپنے فائدے کے لیے سوچے بلکہ وہ ہے جو دوسروں کی جان، عزت، حقوق اور سہولتوں کا بھی خیال رکھے۔ حکومت کو بھی تعلیمی نصاب میں شہری ذمہ داری، بنیادی حقوق، قانون کی پابندی اور اجتماعی نظم و ضبط کو عملی طور پر فروغ دینا ہوگا۔ بڑے اجتماعات کے لیے حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانا ہوگا اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی۔ میڈیا کو بھی محض سنسنی خیزی اور ویوز کی دوڑ کے بجائے معاشرے میں مثبت سوچ پیدا کرنے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ قومیں صرف جلسوں، نعروں، جھنڈوں اور جذباتی تقریروں سے نہیں بنتیں۔ قومیں اس وقت بنتی ہیں جب ان کے شہری اپنے لیڈروں سے سوال کرتے ہیں، اپنے حقوق کے لیے آئینی اور قانونی جدوجہد کرتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں، دوسروں کے حقوق پامال نہیں کرتے اور اپنے ملک کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔قومیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرتی ہیں، ہجوم ہمیشہ دوسروں کے فیصلوں کے پیچھے چلتا ہے۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے ہجوم ہی رہنا ہے یا ایک باشعور قوم بننا ہے۔ کیونکہ جس قوم کا کوئی اجتماعی مقصد نہ ہو، اس کا مستقبل بھی دوسروں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے!