شہرت کافی نہیں ؟ معیشت کیلئے بھی کچھ کر لیں!

یہ لگی لپٹی بات نہیں ہے، مگر یہ سچ ہے کہ ایران امریکا معاہدہ و مذاکرات اتنا آسان کام نہیں ہے، جتنا سمجھ لیا گیا ہے،،، یہاں اگر پاکستان کی جگہ کوئی بھی ملک بطور ثالث کا کردار ادا کر رہا ہوتا تو یہ یقینا اُس کے لیے بھی مشکل ترین ٹاسک ہوتا،،، کیوں کہ معاہدے کے ایک طرف امریکا جو دنیا بھر کے ممالک سے مضبوط ملک یعنی سپر پاور ہے، ،، دوسری جانب ایران جسکی امریکا کے ساتھ کشیدگی کی واضح تاریخ موجود ہے،،، اور وہ اس وقت عوام کو اس لیے بھی زیادہ جوابدہ ہے کیوں کہ وہ کم وبیش جیتا ہوا ملک ہے،،، اسی جیت کے پیچھے اُس نے آدھے سے زیادہ ایران کو تباہ کروا لیا ہے،،، پھر اسی جیت کے پیچھے اُس نے اپنے سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت سینکڑوں اہم شخصیات و اہم ترین قائدین کو کھویا ہے،،، بلکہ اس کے علاوہ دشمن کے ہاتھ ہزاروں ایرانیوں کی شہادت سے رنگے ہوئے ہیں،،، پھر اس معاہدے کے تیسری جانب اسرائیل کھڑا ہے، ،، جو خطے کا چوہدری بننے کا خواب دیکھ رہا ہے،،، بلکہ ایران جنگ سے قبل وہ ہر کسی کے لیے خطرہ بنا ہوا تھا،،، اور اب بھی وہ لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے،،، اور کسی صورت معاہدے کو قبول کرنے سے انکاری ہے،،، بلکہ اسرائیل کے وزراءمعاہدے پر سخت تنقید کر رہے ہیں، جس کے جواب میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ امریکی عوام کے ٹیکسوں سے ہم نے اسرائیل کا دفاع کیا ہے،،، جبکہ امریکی صدر بھی اس حوالے سے اسرائیل کو خاصی تنقیدکا نشانہ بنا چکے ہیں،،، لیکن اسرائیل ہے کہ ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں ہے،،، تبھی آج جمعہ کو ہونے والے سوئٹزر لینڈ میں مذاکرات ملتوی کر دیے گئے ہیں،،، جس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ ایران وفد نے مذکورہ مقام پر پہنچنے سے انکار کر دیا ہے،،، اور ذرائع کے مطابق چیف مذاکرات کار باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سوئٹزر لینڈ روانگی کے لیے مکمل طور پر تیار تھے تاہم اسرائیلی جارحیت جاری رہنے کی وجہ سے ایرانی وفد کا دورہ آخری لمحات میں ملتوی کر دیا گیا۔اسی لیے امریکی نائب صدر نے بھی اپنا دورہ ملتوی کر دیا اور یوں مذاکرات کچھ وقت کے لیے تعطل کا شکار ہوگئے! بہرحال اس سارے معاملے میں پاکستان کی کوششیں یقینا قابل ستائش رہیں،،، لیکن اس کو پاکستان کسی طور پر بھی ”کیش “ نہ کر وا سکا۔ حالانکہ آج حالت یوں ہے کہ پاکستان سال بھر میں جوڑ توڑ کے جو کماتا ہے اس کا 43 فیصد سود میں چلا جاتا ہے۔آپ زیادہ نہیں تو کم از سود ہی ختم کروالیں،،، اس سے کم از اربوں ڈالرز کی بچت تو ہوگی،،، لیکن ہم وہ کام کیوں کریں جس سے عوام کا فائدہ ہو؟ بلکہ جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، تب سے آج تک حکومت نے غیر ضروری ٹیکسوں کے مد میں ہی عوام سے ہزاروں ارب روپے بٹو لیے ہیں،،، جبکہ تادم تحریر وزیرا عظم کا بیان ہے کہ آج عوام کو پٹرول کی مد میں وہ بڑا ریلیف دیں گے،،، میں کہتا ہوں کہ جو چیزیں آپ نے مہنگی کی تھیں، اُن کو واپس لے آئیںتو یہی عوام پر احسان العظیم ہوگا، کیونکہ اس وقت ہر شہر ی اپنی کمائی میں سے پٹرول، ڈیزل اور دیگر اشیاءپر اضافی قیمتیں ادا کر کے ”جنگ ٹیکس“ ادا کر رہا ہے،،، اور مجھے لگتا ہے کہ یہ جنگ ٹیکس شاید ہماری قسمت میں مستقل طور پر لکھ دیا جائے،،، آپ ریلیف کی باتیں چھوڑیں،،، موجودہ بجٹ میں کسی ایک چیز پر بھی سرکاری نے عام آدمی کو ریلیف نہیں دیا،،، جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا کہ ہمارا 43فیصد سود میں چلا جاتا ہے،،، باقی دفاع، انتظامی اخراجات اور اشرافی مراعات پر صرف ہو جاتا ہے۔ پھر بھی ان مدوں میں خرچ ہونے سے کچھ سکے پوٹلی میں بچ جائیں تو اس پوٹلی کو ترقیاتی بجٹ کا نام دے کر ارکانِ اسمبلی کی جانب اچھال دیا جاتا ہے۔ بیشتر ارکان اس بجٹ کو جانے پہچانے ٹھیکیداروں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ ٹھیکیدار بہت سا بانٹتا ہے، کچھ اپنے لیے رکھتا ہے اور تھوڑا بہت پروجیکٹ پر لگا بھی دیتا ہے تاکہ اگلی بار بھی ٹھیکہ مل سکے۔ چند برس پہلے تک ہم اپنے قومی بجٹ کا بیڑہ غرق خود کیا کرتے تھے،،، مگر ہم یہ کام آجکل آئی ایم ایف پر ڈال دیتے ہیں،،، جس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ سب کچھ آئی ایم ایف پر ڈال کر خود پتلے راستے سے نکل جاﺅ،،، اور اسی سسٹم کے تحت ہم نے نظام کو بہتر بنانا تو دور کی بات کرپشن کرنے کا ایسا نظام بنا لیا ہے کہ جسے کوئی بھی خراب نہیں کرسکتا! اسی لیے اس ملک میں ایک خوبی یہ بھی ہے کہ حالات بھلے کتنے اچھے یا برے ہوں، باہر سے ڈالروں کی بارش ہو رہی ہو یا پھر ڈالروں کا قحط پڑ جائے، عام آدمی کا معیارِ زندگی ایک جگہ مستحکم رہتا ہے۔ قرضہ اور غربت بڑھے تو بڑھے مگر مساوی مواقع کے نتیجے میں امارت کی لت عام نہ ہو جائے، اس کا پورا اہتمام رکھا جاتا ہے۔البتہ کام کی تقسیم مساوی ہے۔ عوام صبر کرتے ہیں اور ان پر سواری گانٹھنے والے شکر کرتے ہیں۔ ویسے بھی امیری غریبی دنیاوی جھمیلے ہیں۔ قبر میں تو اعمال ہی ساتھ جائیں گے۔ ہم زرا یہاں عیش کر لیں، تم وہاں عیش کر لینا۔جبکہ اس پر ہم بات کر لیں تو مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں،،، غدار کہلائے جاتے ہیں،،، لیکن میرے خیال میں لوگوں کو بتایا جائے کہ حکومت پر سوال اٹھانا قوم سے غداری نہیں۔ بعض اوقات سوال ہی قوم کو بچاتا ہے۔ بہرحال بات بیرون ملک ہماری عزت کی ہورہی تھی تو بتاتا چلوں کہ یقینا بیرون دنیا ہماری عزت کرنا سیکھ رہی ہے،،، لیکن ”اندرون دنیا“ کا بھی کچھ کر لیں،،، مراعات کا کچھ حصہ اُن کی طرف بھی منتقل کر دیں،،، میں تو کہتا ہوں کہ اللہ کرے معاہدہ ہو جائے اور ایران کے امریکا کے ساتھ تعلقات بہتر ہو جائیں،،، اور پاکستان کو اس کارخیر کا پھل اقتصادی منصوبوں میں بیرونی سرمایہ کاری کی شکل میں ملے ۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کی تکمیل سے ملک میں توانائی کے بحران کی شدت میں کسی حد تک کمی ہو۔ افغانستان نہ بھی قابو میں آیا تب بھی براستہ ایران وسطی ایشیائی ممالک سے تجارت بڑھانے کے امکانات روشن ہوں۔مجھے خدشہ ہے کہ تب بھی یہ اشرافیہ و مافیا اس کے ثمرات پاکستان تک نہیں آنے دے گا،،، کیوں کہ سرکار کے پاس اسے ”کور“ کرنے کے لیے 100بہانے ہیں جیسے سرکار کل بھی کہتی تھی اور آج بھی کہتی ہے کہ ہمارے وسائل محدود ہیں، ٹیکس چوری قابو میں نہیں آ رہی، سرمایہ کاری جھٹکے دار ہے، چنانچہ قرضوں کا بوجھ بڑھنا ناگزیر ہے۔ چادر چھوٹی ہے اور آبادی بڑھی چلے جا رہی ہے۔ ہمارے پاس الٰہ دین کا چراغ نہیں، کریں تو کیا کریں۔ سوال یہ ہے کہ جب آبادی پچیس کروڑ کے بجائے ساڑھے تین کروڑ یا سات کروڑ تھی تب کیا پاکستان فرانس تھا؟ تب کیا غربت، بے روزگاری، ناخواندگی کی شرح کم تھی؟ موجودہ پاکستان کا اتنا ہی رقبہ تھا، وہی جغرافیہ ہے، قدرتی و معدنی وسائل بھی اتنے ہی ہیں بلکہ پچاس برس پہلے فی کس وسائل آج کے مقابلے میں دوگنے تھے۔ تب کیوں آئی ایم ایف کے چکر لگ رہے تھے۔ تب بھی خوشحالی محض ایک خوش کن سراب کیوں تھی؟ہمارے حالات شروع سے ہی ایسے تو نہ تھے،،، ہمیں بیرون دنیا سے ڈالرز ملتے رہے،،، کبھی امریکا کے اتحادی ہونے کے ناطے تو کبھی افغان جنگ میں ،، لیکن سوال پھر وہی ہے کہ یہ سب کچھ کہاں خرچ ہو گیا؟ کم از کم تعلیم ، صحت اور معیشت میں تو ٹپائی نہیں دیا۔ 2014-15میں سی پیک کے نام پر ایک اور گیم چینجر نمودار ہوا۔ کہتے ہیں کہ سی پیک کا پیکیج 70ارب ڈالر سے اوپر پہنچا ہوا ہے۔ آج گیارہ برس بعد بھی ہماری قسمت کتنی بدلی ہے؟ بہرکیف ابھی بھی وقت ہے سنبھل جائیں،،، فیلڈ مارشل اور وزیرا عظم اس ملک کے لیے کچھ کر جائیں،،، یقین مانیں نسلیں اُنہیں دعاﺅں میں یاد رکھیں گی،،، اس لیے میرے خیال میں سب سے پہلا ہمیں توانائی کے شعبے کو دیکھنا ہوگا،،، پاکستان کئی سالوں سے توانائی کے بحران، مہنگے درآمدی ایندھن اور زرمبادلہ کی کمی کا شکار رہا ہے۔ ایران دنیا کے بڑے تیل اور گیس پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو پاکستان کے لیے ایرانی گیس اور تیل تک رسائی نسبتاً آسان ہو سکتی ہے۔ پاکستان،ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ ایک عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ بہتر علاقائی ماحول اور پابندیوں میں نرمی اس منصوبے کو دوبارہ زندہ کرنے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ سستی گیس اور توانائی پاکستانی صنعت، بجلی کی پیداوار اور گھریلو صارفین کے لیے اہم ریلیف ثابت ہو سکتی ہے۔ دوسرا اہم شعبہ تجارت ہے۔ پاکستان اور ایران کی سرحد تقریباً 900 کلومیٹر طویل ہے، مگر دونوں ممالک کے درمیان تجارت اپنی حقیقی صلاحیت سے بہت کم ہے۔ اگر ایران عالمی مالیاتی نظام میں دوبارہ فعال ہوتا ہے تو بینکنگ چینلز کھل سکتے ہیں، ادائیگیوں کے مسائل کم ہو سکتے ہیں اور سرحدی تجارت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان خوراک، ٹیکسٹائل، ادویات، کھیلوں کا سامان اور دیگر مصنوعات ایران کو برآمد کر سکتا ہے جبکہ ایران سے توانائی، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور خام مال درآمد کر سکتا ہے۔ تیسرا اہم پہلو گوادر اور علاقائی رابطے ہیں۔ اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو پاکستان خود کو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے درمیان ایک تجارتی راہداری کے طور پر پیش کر سکتا ہے۔ گوادر بندرگاہ اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کی اہمیت مزید بڑھ سکتی ہے۔ ایران کی بندرگاہوں، وسطی ایشیا اور خلیجی ممالک کے ساتھ بہتر روابط پاکستان کے لیے ٹرانزٹ فیس، سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔سیاحت بھی ایک ایسا شعبہ ہے جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایران میں مذہبی زیارات کے لیے پاکستانی زائرین کی بڑی تعداد جاتی ہے جبکہ پاکستان میں بھی مذہبی اور تاریخی مقامات موجود ہیں۔ بہتر تعلقات اور آسان سفری سہولتیں دونوں ممالک کے درمیان سیاحت اور خدمات کے شعبے کو فروغ دے سکتی ہیں۔ اس سے مقامی معیشت، ہوٹل انڈسٹری اور ٹرانسپورٹ کے شعبے کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ سرمایہ کاری کا امکان بھی اہم ہے۔